انسداد پولیو

انسداد پولیو کیلئے ہم سب متحد ہیں، نگرا ن وزیراعظم انوار الحق کاکڑ

اسلام آباد (لاہورنامہ)نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انسداد پولیو کیلئے ہم سب متحد ہیں، انسداد پولیو کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا.

پولیو ویکسین پلانے کیلئے ہمیں ہر بچے تک پہنچنا ہے، پاکستان میں ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر انسداد پولیو اور زچہ و بچہ کے علاج کیلئے مؤثر اقدامات کئے جا رہے ہیں، انسداد پولیو مہم کے دوران کئی پولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکاروں نے فرائض کی انجام دہی میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے.

پولیو کے خاتمہ میں بل اینڈ ملینڈا گیٹس کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔وہ منگل کو انسداد پولیو کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی اور نگراں وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انسداد پولیو کا عالمی دن ڈاکٹر جونس سالک کی سالگرہ کی یاد میں منایا جاتا ہے جن کی سربراہی میں 1950ء کے عشرے کے اوائل میں انسداد پولیو ویکسین کی تیاری عمل میں لائی گئی، ویکسین کی بدولت دنیا بھر میں 2 کروڑ سے زائد افراد کو پولیو کے موذی مرض سے نجات ملی، اگر یہ ویکسین تیار نہ کی جاتی تو آج دنیا میں صورتحال مختلف ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 1988ء میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوا، اس وقت دنیا کے 125 ممالک میں پولیو کا وائرس موجود تھا اور ساڑھے تین لاکھ سے زائد بچے پولیو سے معذور ہو چکے تھے، آج 99 فیصد دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے اور پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو کے کیسز سامنے آ رہے ہیں.

پاکستان نے پولیو کے خاتمہ کیلئے بھرپور اقدامات کئے ہیں، 2022ء میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 22 تھی جو اب کم ہو کر صرف 4 رہ گئی ہے، پاکستان میں ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر انسداد پولیو اور زچہ و بچہ کے علاج کیلئے مؤثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں جہاں پولیو کے کیسز سامنے آتے ہیں وہاں پر غذاء کی فراہمی، علاج کی بہتر سہولیات اور صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں، پاکستان کو پولیو پروگرام انتہائی مؤثر ہے اور اس پروگرام کی بدولت ملک میں بچوں کو پولیو کے وائرس سے بچانے میں کامیابی ہوئی ہے.

اس مقصد کیلئے پولیو ہیلتھ ورکرز، سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات اور قربانیاں قابل تحسین ہیں جنہیں مشکل حالات میں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا پڑتی ہیں لیکن پولیو کے خاتمہ کیلئے ان کا عزم متزلزل نہیں ہوتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2011ء کے بعد سے ہمارے بہت سے پولیو ورکرز نے ملک سے پولیو کے خاتمہ کی کاوشوں کے دوران قربانیاں دی ہیں اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے.

اس کے علاوہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کئی پولیو ورکرز زخمی بھی ہوئے، اس اہم قومی مقصد کے حصول کیلئے ہم ان کے اہلخانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اس چیز کا احساس کرنا ہو گا کہ دنیا میں پولیو کے مکمل خاتمہ کے حوالہ سے 2024ء میں ہمارے اوپر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہو رہی ہے اور اس کیلئے ہمیں ہر طرح کے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ پولیو کا پھیلائو روکا جا سکے.