ڈاکٹر عارف علوی

پاکستان کا کوئی بھی سیاستدان کشمیر پر سمجھوتہ کی جرات نہیں کر سکتا، ڈاکٹر عارف علوی

مظفر آباد(لاہورنامہ)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کا کوئی سیاستدان کشمیر پر سمجھوتہ کی جرات نہیں کر سکتا، دنیا کو خبردار کرتے ہیں کہ بھارت جس راستے پر گامزن ہے .

وہ خطرناک ہے اور اس سے دنیا کا امن تباہ ہو سکتا ہے، بھارت زیادہ دیر تک کشمیریوں کو آزادی کے حق سے محروم نہیں رکھ سکتا، مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی جھانسہ میں نہ آئیں بلکہ مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر عالمی برادری کی خاموشی معنی خیز ہے۔

ہفتہ کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مظفر آباد میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کشمیریوں نے ڈوگرہ راج، تحریک پاکستان کے موقع پر قربانیاں دیں اور وہ آج تک یہ قربانیاں دے رہے ہیں، پاکستان دنیا کو یہ صورتحال دکھانا چاہتا ہے کہ کشمیر میں ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا گیا، وہاں نوجوانوں اور کشمیری لیڈروں کو غیرقانونی حراست میں رکھنا، جعلی مقابلوں میں ان کا قتل عام ہے،

میڈیا پر پابندی ہے تاکہ وہاں کے حالات سے دنیا بے خبر رہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اگر امن کا دعویدار ہے تو وہ کشمیر کے راستے کھولے، دنیا کے میڈیا کو رسائی دے، سوشل میڈیا پر پابندی ختم کرے، معصوم افراد کا محاصرہ بند کرے، یہ اقدامات بھارت کی جانب سے نوجوانوں کی ہمت توڑنے کیلئے کیے جا رہے ہیں، یورپ میں یہودیوں پر مظالم کے باوجود یہودیت کی بات ہوتی رہی ہے،

یہ الگ بات ہے کہ یہودی اب خود ظلم کر رہے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوموں کو جبر سے دبایا نہیں جا سکتا، کشمیریوں پر بھی ظلم ختم ہوگا، وہاں کوئی بچہ ایسا نہیں جو آزادی کی بات نہ کرے، کوئی ماں ایسی نہیں جو اپنے بچے کو آزادی کا درس نہ دے۔ صدر مملکت نے کہا کہ تاریخ نے ثابت کیا کہ بھارت کے کشمیر کے حوالے سے تمام وعدہ دھوکہ اور چاپلوسی تھے،

اس خطے کو مجاہدین نے آزاد کروایا تب راتوں رات بھارت اقوام متحدہ گیا جبکہ ہم یہ سمجھ بیٹھے کہ اقوام عالم کا نیا ادارہ اقوام متحدہ ان قراردادوں پر عملدرآمد کرائے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایک سازش کے تحت گورداسپور کا علاقہ بھارت کو دے دیا گیا کیونکہ اس کے علاوہ کشمیر کا کوئی زمینی راستہ نہیں تھا، یہ وہ تعصبات تھے جن کی بنیاد پر بھارت کشمیر پر قابض ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جمہوری راستے سے بنا، لوگوں سے ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا، جونا گڑھ اور حیدر آباد پر بھارت نے قبضہ کیا، مسلمان اکثریت کا حامل علاقہ ہونے کی وجہ سے کشمیر پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو پابند سلاسل رکھا گیا لیکن ان کے نظریہ پر کوئی فرق نہیں پڑا، ان کا جذبہ جوان تھا اور وہ ہمہ وقت شہادت کیلئے تیار تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا گھروں کو مسمار کرنے کا کوئی قانون ہے، زنا بالجبر کو ریاستی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جا رہا ہے،

کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم بیان سے باہر ہیں، ہندوتوا نظریہ اور نفرت کی بنیاد پر ہندوستان اپنی صدیوں پرانی تاریخ مٹا کر جھوٹی تاریخ لکھنا چاہتا ہے، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں لیکن مسلمانوں پر مظالم پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے، آج بھارتی اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ دو قومی نظریہ درست تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیلٹ گنز کے استعمال کو انسانی حقوق کا مسئلہ سمجھ کر دنیا خاموش تماشائی کا کردار ترک کرکے اس پر آواز اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی یقینی ہے،

بھارت کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، کشمیریوں کی مزاحمت دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ بھارت انہیں زیادہ دیر تک محکوم نہیں رکھ سکتا، ہم دنیا کو خبردار کر رہے ہیں کہ بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے، کشمیر میں وہ انتظامی اعتبار سے اس پر عمل پیرا ہے، کشمیریوں کے روزگار تباہ کیے جا رہے ہیں، بندوق کے زور پر تشدد کے بعد کشمیری بھارت کو معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جو حربے اختیار کرتا ہے کر لے لیکن کشمیر میں سرمایہ کاری نہیں آئے گی .

کیونکہ کشمیر کے تنازعہ کو حل ہونا ہے اور ایسی تمام سرمایہ کاری ضائع جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے قانون اور انصاف کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے، مسلمان نہ ظلم کرتا ہے اور نہ سہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے طے کر لیا ہے کہ وہ پرامن انداز میں آزادی کی تحریک جاری رکھیں گے، ہم عالمی اداروں کو بھرپور موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ کا حل نکالیں لیکن مظلوم کشمیری کب تک انہیں موقع دے گا، وہ ہتھیار اٹھا سکتا ہے، سات دہائیوں سے کشمیریوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔